عالمی منڈی میں بڑی کمی کے باوجود گھی اور تیل مہنگا

 

فوٹو :فائل 


ویب ڈیسک (چیغہ نیوز) خوردنی تیل کی قیمت 12500 روپے سے بڑھا کر یکدم 17500 روپے کر دی گئی

تفصیلات کے مطابق عالمی منڈی میں کھانا پکانے کے تیل (خوردنی تیل) کی قیمتوں میں 50 فیصد بڑی کمی کے باوجود پاکستان میں تیل مہنگا کردیا ہے،خوردنی تیل کی فی من قیمت میں 5 ہزارروپے کا ہوشربا اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد کھانا پکانے کے تیل کی قیمت 12 ہزار 500 روپے سے یک دم بڑھ کر 17500 روپے ہو گئی ہے

نجی ٹی وی سماء نیوز نے ٹریڈرز کے حوالے سے بتایا کہ ملک کی 10 کمپنیوں یا بڑے بیوپاریوں نے گٹھ جوڑ کر کے تیل کی قیمت بڑھادی ہے، اور انتظامیہ کی جانب سے ان سے کچھ نہیں پوچھا جارہا ہے،دوسری جانب کراچی میں کھلے کوکنگ آئل کی فروخت پر پابندی نے آئل کمپنيز کو اجارہ داری فراہم کردی ہے جس کی وجہ سے صارفين کا استحصال ہورہا ہے، اس گٹھ جوڑ کی وجہ سے يہ کمپنياں صارفين کو کوکنگ آئل کی عالمی قيمتوں ميں گراوٹ کا فائدہ بھی نہيں دے رہی ہيں

عالمی منڈی میں کوکنگ آئل کی قیمتوں میں ایک تہائی کمی ہوچکی ہے، مگر کمپنیوں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے اس کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔

صدر کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن عبدالرئوف ابراہیم کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں کوکنگ آئل کی قیمتوں میں ایک تہائی کمی ہوچکی ہے، مگر کمپنیوں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے اس کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔

صدر ایڈیبل آئل سیلرز ایسوسی ایشن کراچی قربان علی کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں قیمت 3800 رنگٹ پر آگئی ہے، اور اس بنیاد پر ملک میں تیل کی قیمت 190 روپے کم ہونی چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ تیل کمپنیاں ٹین میں گھی 410 روپے کلو اور پاؤچ میں وہی گھی 530 روپے میں دے رہی ہیں، گھی کے ٹین اور پاؤچ کی قیمت میں فرق ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ تیل اور گھی کی ملز کس طرح غریب خریداروں کا استحصال کر رہی ہیں۔

قربان علی نے کہا کہ سندھ کے متعدد اضلاع میں کھلا تیل مل رہا ہے لیکن صرف کراچی میں کھلے تیل پر پابندی ہے، کھلے تیل پر پابندی مارکیٹ میں مسابقت ختم ہوگئی ہے، جس کا فائدہ وہی کمپنیاں فائدہ ااٹھا رہی ہیں جو عوام کو عالمی منڈی میں کمی کا فائدہ دینے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہیں، تیل پر پابندی پر عمل درآمد صرف کراچی میں کیوں کیا جارہا ہے یہ سوال اہم ہے۔

قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو نہ دینے کا سوال ممبر آئل ملز ایسوسی ایشن پاکستان عمر ریحان کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ مقامی مارکیٹ میں فرق فوری طور ہر نہیں مل سکتا ۔ اور ہر آئل مل اپنی مرضی کی مالک ہے۔

تیل کمپنیوں کے اس موقف سے ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کراچی کے صدر نے اتفاق نہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ یہی ملز عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے پر 15 منٹ کے اندر عوام پر لاگو کر دیتی ہیں۔




SHARE THIS

Copy Url

Author:

HELPER NETWORK is a blog provide blogger templates for free Read More

0 coment rios: